2 دسمبر 2012 - 20:30

ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل اور دیگر کو گرفتار کرنے کے خلاف گلگت کے نواحی علاقے نومل اور جوتل میں ہزاروں مرد و خواتین سڑکوں پر نکل آئے اور شاہراہ قراقرم سمیت دیگر مرکزی شاہراہوں کو بند کرکے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آئی جی پی گلگت بلتستان کو یرغمال بنا کر 12 گھنٹے نظربند رکھا۔

ابنا: تفصیلات کے مطابق پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جواننٹ سرچ آپریشن کرکے ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شیخ نیئر عباس سمیت دیگر 4 افراد انجمن امامیہ کے صدر فقیر شاہ، حسن شاہ، اہلسنت و الجماعت کے مولانا عطاء اللہ ثاقب کو گرفتار کرلیا ہے۔ درایں اثناء مجلس وحدت مسلمین ضلع گلگت کا ہنگامی اجلاس ضلعی سیکرٹری جنرل سعید الحسنین کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں علامہ شیخ نیئر عباس کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقے کے امن کو تباہ کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیراعلٰی اور گورنر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امن کے داعی علامہ شیخ نیئر عباس کو فوری رہا کرنے کا حکم دیں ورنہ احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ علامہ شیخ نیئر کی گرفتاری علاقے کا امن سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔اجلاس کے دوران جے یو آئی کے رہنما قاری عبید کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور اصل مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں قاری عبید کی نماز جنازہ کے موقع پر نازيبا نعرے بازی اور اشتعال انگیز تقاریر کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے نہ صرف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا بلکہ اسلحہ کی سر عام نمائش بھی کی گئی مگر انتظامیہ کی جانب سے شرپسندوں کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہ لینا سوالیہ نشان ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت امن پسندوں اور شرپسندوں کے درمیان میں فرق کرے اور امن کے فروغ کے لئے کردار ادا کرنے والے رہنماؤں کو رہا کرتے ہوئے بدامنی اور اشتعال انگیزی پھیلانے والے افراد کو فوری طور پر گرفتار کرے تاکہ علاقے میں امن کا قیام ممکن ہوسکے اور انصاف پر مبنی حکومتی فیصلوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔اس دوران گلگت بلتستان کے آئی جی پولیس عثمان زکریا کو مظاہرین نے گرفتار کرکے 12 گھنٹے تک نظربند رکھنے کے بعد علامہ مصطفوی کی رہائی کی ضمانت حاصل کرکے سرکاری اہلکاروں کے حوالے کیا۔ مظاہرین نے آئی جی پی کو گرفتار کرکے کہا تھا کہ جب تک علامہ نیئر عباس مصطفوی کو رہا نہیں کیا جاتا آئی جی کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی کو اتوار کی صبح 6 بجے مشتعل مظاہرین نے اس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب وہ علامہ نیئر عباس مصطفوی کی گرفتاری کے بعد نومل کے حالات کا جائزہ لینے وہاں پہنچے تھے۔ مظاہرین نے آئی جی پی عثمان زکریا کو ایک گھر میں بند کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حالات کی سنگینی کی پیش نظر پارلیمانی امن کمیٹی اور مساجد بورڈ کے اراکین فوراً نومل گئے اور وہاں کے عوام سے مذاکرات کئے۔تقریباً نو گھنٹے کے طویل مذاکرات کے بعد پارلیمانی امن کمیٹی اور مساجد بورڈ کے اراکین نے ایک تحریری معاہدہ کیا کہ وہ علامہ شیخ نیئر عباس کو اپنی ذمہ داری پر رہا کروائیں گے جس پر عمائدین نومل نے آمادگی ظاہر کی اور آئی جی پی کو شام 6 بجے نومل پل تک پہنچایا، جنہیں بعد میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ گلگت لایا گیا۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کی نومل میں موجودگی پر مشتعل مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی اور غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔بشکریہ از: اسلام ٹائمز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110